Tuesday, September 11, 2012

دستک فاونڈیشن کے زیر اھتمام بعنوان کھیت آباد دھرتی شاد سیمینار

باغ، اشتیاق حسین سے دنیا میں پیدا ھونے والے غزائی بحران کے سدباب کے لیے مقامی سطح پر غزائی ضروریات کی تکمیل کے لیے ٹھوس منصوبھ بندی کی ضرورت ھے۔اس سلسلھ میں زراعت کے اندر ریسرچ حکومتی سطح پر منصوبھ بندی،عوامی سطح پر کام اور گھری دلچسپی کی ضرورت ھے۔ان خیالات کا اظھار دستک فاونڈشن بنی پساری باغ کے زیر اھتمام ایک سیمینار میں کیا گیا جس کا عنوان تھا کھ کھیت آباد دھرتی شاد ۔سیمینار کے مھمان خضوصی اسسٹنٹ کمشنر باغ عبد الحمید مغل تھے جبکھ سیمینار میں محکمھ زراعت باغ کے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجھ غلام محمد ،شعبھ باغبانی کے ضلعی افسر افتخار احمد بٹ،لائف اسٹاک کو آرڈینیٹر ڈاکٹر شبیر خان،سابق صدر پریس کلب سردار اشتیاق حسین،کے آئی آر ایف کے کو آرڈئنیٹر ذوالفقار راجھ،سابق مئر زراعت کھوکھر صاحب،ایکشن ایڈ پاکستان کے راجھ حبیب الرحمن،اور کو آرڈینیٹر سید وحید شاھ،کسان راھنماوں ،سردار محمد یوسف،سردار وحید بیگ،سردار عابد شاھین،صدر غیر جریدھ ملازمین باغ سردار فاروق خان،کلرکس ایسوسی ایشن ضلع باغ کے صدر سردار سعید خان،راجھ محمد سعید ایڈوکیٹ اور دیگر نے خطاب کیا،تقریب کی صدارت تنظیم کے صدر سردار جاوید خان نے کی جبکھ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار ساجد سلیم خان نے انجام دیئے ۔مقررین نے کہا کہ آزاد کشمیر میں زمین کی حد کم ھے اس لیے اسے بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں قیمتی فصلیں کاشت کی جائیں اور روائتی طریقوں سے جان چھڑائی جائے ۔مقررین نے کہا کہ آزاد کشمیر میں زراعت کے لیے کل بجٹ کا1.43%رکھا ہے جس میں صرف پانچ کروڑ اسی لاکھ روپے ریسرچ کے لیے رکہے گئے ھیں ۔ دنیا میں زراعت کے بجٹ میں اضافھ ھو رھا ھے جبکہ یہاں زراعت کے بجٹ میں کمی کی گئی ھے۔مقررین نے مذید کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں پانچ لاکھ ستائیس ہزار ایک سو بارہ ایکڑ زمین قابل کاشت ھے ۔مقررین نے مذید کا کہ آزاد کشمیر میں آب پاشی کا متبادل نظام تباہ ہو گیا ھے لیکن اسے مکمل طور پر درست نہیں کیا گیا۔کھادوں کا استعمال زمین کی ساخت کے مطابق نہیں کیا گیاجس سے زمین کی پیداواری صلاحتیں تباہ ہوئیں ۔دوران سیمینار اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ علاقے میں ایسے بیج مہیا کیئے جاتے ہیں جن کے مذید پیداوار ممکن نہیں ھوتی ۔مقررین نے مطالبھ کیا کہ آزاد کشمیر میں زراعت کو فوکس کیا جائے اور زرعی زمین کو تعمیراتی مقاصد کے لیے ہر گز ضائع نھ کیا جائے۔بارش کے پانی کو زرعی مقاصد کے استعمال کے لیے منصوبھ بندی کی جائے اور ریسرچ کے ذریعے قیمتی جڑی بو ٹیاںاور سبزیاںو فصلیں کاصت کی جائیں ۔مقررین نے چاول اور گندم کی کاست میں اضافے کا مطابہ کیا گیا ۔زراعت کے بجٹ میں اضافے اور ءود کفالت کے اصولوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبھ کیا گیا۔مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمھ زراعت اور کسانوں کے درمیان رابطے کے فقدان کو ختم کرتے ھوئے رابطھ کمیٹیاں بنائی جائیں۔اس موقع پر ماھرین اور شرکا نے دستک فاونڈیشن کے جنرل سیکرٹری سردار ساجد سلیم کی کوششوں کو سراہا کہ انھوں نے اس اہم مسئلے پر سیمینار کا انعقاد کرتے ھوئے مستقبل کے خدصات کا تدارک کرنے کوشش کی .